Pages

Wednesday, 4 October 2017

!!! تربیتِ اولاد اور مذہبِ اسلام !!! "قسط نمبر تین" . . . . محرر !!! ابن الادریس میترانوی !!!

!!! تربیتِ اولاد اور مذہبِ اسلام !!!
           !!! قسط نمبر تین !!!
            ــــــــــــــــــــــ
    محرر!!! ابن الادریس میترانوی !!!
        ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
" قرآن میں بچوں سے محبت کے اشارات"
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
            
            قرآن نے انسان و انسانیت کے مفاد و نفع کی ہر اس بات کا ذکر صراحتاً یا اشارتاً کیا ہے، جو ضروری ہے، قرآن نے بچوں کی تعلیم و تربیت کے عنوان سے بھی ان تمام باتوں اور احکامات کو اصولی اور کُلّی پیرائے میں پیش کردیا ہے، جو بچوں کے مستقبل کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں، ان اصولی اشارات میں سے ایک حکم بچوں سے محبت کرنا ہے،  جو انسانی فطرت کا اٹوٹ حصہ ہے، بچوں کی تربیت میں ماں، باپ، اور  سرپرستوں کا اپنے ماتحت بچوں سے شفقت و محبت کا بڑا دخل ہے، اس لئے قرآن میں اس پہلو پر نہایت لطیف انداز میں اشارے کئے گئے ہیں، اسی طرح قرآن نے یہ بات بھی بیان کی ہے کہ بچے زندگی کی نعمت، زینت اور رونق ہیں، چنانچہ ارشاد ہوا: 
{ الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَاباً وَخَيْرٌ أَمَلاً }
( سورة الکہف/۴۶ )
ترجمہ.....
(  مال اور اولاد دنیوی زندگی کی زینت ہیں،  اور جو نیکیاں پائدار رہنے والی ہیں، وہ تمہارے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں، اور امید وابستہ کرنے کے لئے بھی بہتر ہیں )
( آسان ترجمۂ قرآن از مفتی تقی )
    
   قدیم زمانہ سے ہی لوگ مال و اولاد کے بارے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کیا کرتے تھے،
اللہ عز و جل کا فرمان ہے:
{ َقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا }
( سورة السباء /۳۵)
ترجمہ.........
(  اور کہا کہ "  ہم مال و اولاد میں تم سے زیادہ ہیں، )
  ( آسان ترجمۂ قرآن از مفتی تقی )
            قرآنی اشارات میں سے ایک اشارہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی اولاد کا ذکر انسانی فطرت کی پسندیدہ و مرغوب ترین چیزوں میں سے  کرتے ہیں، جن کی محبت لوگوں کو خوشنما معلوم ہوتی ہے-  فرمایا:
{زُُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاء وَالْبَنِين}َ
( سورة اٰل عمران /۱۴)
ترجمہ........
(  لوگوں کے لئے ان چیزوں کی محبت خوشنما بنادی گئی، جو ان کی نفسانی خواہشات کے مطابق ہوتی ہیں،  یعنی عورتیں اور بچے ) 
( آسان ترجمۂ قرآن از مفتی تقی )
                   اسی طرح بہت سے قرآنی ارشادات ہمیں بچوں سے انسیت و محبت کی رغبت دلاتے ہیں، اللہ تعالی کی دیگر بہت سی نعمتوں کی طرح اطفال و اولاد بھی ایک بڑی نعمت ہے،
فرمانِ الہی ہے......
{ وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّات ٍوَ يَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا }
(سورة النوح/۱۲)
ترجمہ...........
(  اور تمہارے مال اور اولاد، میں ترقی دےگا، اور تمہارے لئے باغات پیدا کرے گا ،  اور تمہارے لئے نہریں مہیا کرے گا )
  ( آسان ترجمۂ قرآن از مفتی تقی )
اور ایک مقام پر ارشاد وارد ہوا
{و َأَمْدَدْنَاكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَجَعَلْنَاكُمْ أَكْثَرَ نَفِيرًا }
( سورة الاسراء / ۶)
ترجمہ......
( اور تمہارے مال و دولت میں اضافہ کیا، اور تمہاری نفری بڑھا دی )
( آسان ترجمۂ قرآن از مفتی تقی )
یہ تمام ارشاداتِ ربانیہ اور آیاتِ قرآنیہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ لوگوں کا بچوں سے محبت و الفت کرنا نہ صرف بجا ہے بلکہ یہ ایک فطری بات ہے،
        اس کے علاوہ ہم اس مسئلہ کو دوسرے پہلو سے بھی دیکھتے ہیں،
اگر بچوں کی صحیح تربیت کا انتظام اور معقول تعلیم کا نظم نہ کیا گیا تو یہ بچے اپنے والدین اور خاندان کے لئے باعثِ عذاب اور وبالِ جان بھی بن جاتے ہیں،
اس پہلو کو قرآن کریم یوں اُجاگر کرتا ہے:
{وَاعْلَمُوا أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَأَنَّا للَّهَ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ}
(سورة انفال/۲۸)
ترجمہ........
( اور یہ بات سمجھ لو کہ تمارے مال اور تمہاری اولاد ایک آزمائش ہیں،  اور یہ کہ ایک عظیم انعام اللہ ہی کے پاس ہیں )
( آسان ترجمۂ قرآن از مفتی تقی )
اور ایک جگہ اس طرح ارشاد فرمایا:
{ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِن ْأَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ }
(سورة التغابن / ۱۴)
ترجمہ............
( اے ایمان والو  !  تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے کچھ تمہارے دشمن ہیں ، اس  لئے ان سے ہوشیار  رہو )
          تعلیم و تربیت کا فقدان یا حد سے زیادہ لاڈ، پیار جو اولاد کو بگاڑ دے اس پر قرآن نے روک لگادی ہے،  مستقبل کی فلاح و بہبود اور معاشرتی اصلاح کے لئے قرآن نے اعتدال قائم کیا ہے اور اس طرح بچوں کی تربیت کی طرف متوجہ کیا ہے کہ ماں باپ ، مربیین، مصلحین، سرپرست، اساتذہ، اور ٹیچرز حضرات قرآن سے مکمل رہبری حاصل کرسکتے ہیں اسی لئے قرآن نے جہاں دوسرے پہلو کو مد نظر رکھا ہے، وہاں اس بات کا بھی اہتمام کیا ہے کہ نیک اولاد کے حصول کے لئے بار بار اور ہمیشہ اللہ تعالی کے حضور عاجزی کے ساتھ دعا بھی کرتے رہیں کہ اللہ صالح اولاد عطا کرے، حضرت زکریا علیہ السلام جسے جلیل القدر پیغمبر کی دعا کو اللہ سبحانہ وتعاليٰ نے قرآن کریم میں اس طرح ذکر فرمایا  : کہ

{ هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاء}

(سورة اٰل عمران / ۳۸َ)
ترجمہ........
( پروردگار ! اپنے پاس سے مجھے نیک اولاد عطا فرما' بے شک تو دعاؤں کو سننے والا ہے۔ )
01/ 10 / 2017
juneddhukka3366@gmail.com
جاری
ان شاء اللہ العزیز✒✒✒✒✒

مکمل تحریر >>

!!! تربیتِ اولاد اور مذہبِ اسلام !!! "قسط نمبر دو" . . . . محرر !!! ابن الادریس میترانوی !!!

!!!  تربیتِ اولاد اور مذہبِ اسلام  !!!
     
      !!!   قسط نمبر دو !!!
           ـــــــــــــــــــــــ
   محرر !!!  ابن الادریس میترانوی !!!
     ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

     !!! بچپن کا ذکر قرآن میں !!!
     ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  
            بچے اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہیں ، اللہ تعالی نے بطور امتحان و آزمائش ہمارے سپرد کیا ہے، بچے مستقبل کا سرمایہ ہیں، بچے قوم کی امانت ہیں، بچوں کی تعمیر مستقبل کی تعمیر ہے، بچوں کی اصلاح آنے والے وقت کی اصلاح ہے، کیونکہ انسان کی پوری زندگی کا مدار اس کے اپنے بچپن کے شب و روز پر ہے، کامیابی و ناکامی  زمانہء طفولیت کی تعلیم و تربیت پر موقوف ہے، اسی وجہ سے اسلام نے بچوں کی تعلیم و تربیت پر خاطر خواہ توجہ دی ہے، اللہ تعالی نے قرآنِ مجید میں مختلف مقامات پر الگ الگ انداز سے اس کی اہمیت کو واضح فرمایا ہیں، قرآنِ کریم میں بچوں اور بچیوں کے متعلق بے شمار ہدایات و ارشادات موجود ہیں، یہ کتابِ الہی فوائد و بدائع سے بھری ہوئی ہے، اور یہ ارشادات انتہائی فکر انگیز اور مؤثر بھی ہیں،
      
     ہر انسان زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے، جس کا ذکر قرآن اپنے مخصوص انداز میں اس طرح کرتا ہے
(۱وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ ۝
       (سورة المؤمون / آیة نمبر ۱۲‌‍
ترجمہ.....
انسان کو چنی ہوئی مٹی سے پیدا کیا،
(۲) فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ ۝  خُلِقَ مِن مَّاء دَافِقٍ.۝
   ( سورة الطارق / آیت نمبر  ۵/۶ )
  
ترجمہ........
اب انسان کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ کس چیز سے پیدا کیا گیا  ہے ۝ ایک اُچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا  ۝
( آسان ترجمۂ قرآن از مفتی تقی )

(۳) يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاكُم مِن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِن مُّضْغَةٍ مُّخَلَقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ إِلَي أَجَلٍ مُّسَمّي ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلاً ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّي وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَي أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلاَ يَعْلَمَ مِن بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئاً وَتَرَي الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنْبَتَتْ مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ ۝
  ( سورة الحج آیت نمبر ۵ )
ترجمہ......
اے لوگو !  اگر تمہیں دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں کچھ شک ہے تو ( ذرا سوچو کہ )  ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا،  پھر نطفے سے،  پھر جمے ہوئے خون سے، پھر ایک گوشت کے لوتھڑے سے جو ( کبھی) پورا بن جاتا ہے اور ( کبھی ) پورا نہیں بنتا ، تاکہ ہم تمہارے لئے ( تمہاری ) حقیقت کھول کر بتادیں، اور ہم ( تمہیں) ماؤں کے پیٹ میں جب تک چاہتے ہیں، ایک متعین مدت تک ٹھرا رکھتے ہیں، پھر تمہیں ایک بچہ کی شکل میں باہر لاتے ہیں، پھر ( تمہیں پالتے  ہیں ) تاکہ تم اپنی بھر پور عمر تک پہنچ جاؤ، اور تم میں سے بعض وہ ہیں جو ( پہلے ہی ) دنیا سے اٹھا لئے جاتے ہیں، اور تمہی میں سے بعض وہ ہوتے ہیں جن کو بد ترین عمر ( یعنی انتہائی بڑھاپے ) تک لوٹا دیا جاتا ہیں، یہاں تک کہ وہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی کچھ نہیں جانتے،
( آسان ترجمۂ قرآن از مفتی تقی )

انسان کو اللہ تعالی نے ایک خاص قسم کی مٹی سے بنایا،
پھر نطفہ سے گزارا،
اس کے بعد خون کا لوتھڑا ہوا،
پہر ہڈیاں بنیں،
روح پھونکی گئی،
اور ایک مدت کے بعد انسانِ کامل بنا کر اللہ تعالی اس کو بچہ کی شکل میں دنیا میں بھیجتے ہے، جو ابتدا میں بالکل ناتواں اور کمزور ہوتا ہے، اس کے بعد وہ بچہ قوت و عقل اور جسم و بدن کے کمال اور ظاھری و باطنی قوتوں کی حدِ تمام تک پہنچتا ہے،   "" خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتا ہے""
ان ادوار و احوال کے بعد وہ بچہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جاتا ہے بالآخر وہ  بحکمِ خداوندی عمر گزار کر زندگی کا سفر پورا کرلیتا ہے..........
          یہ ربانی تصویر ہے جس کو اللہ عز و جل نے قرآن میں ذکرکیا ہے.
سورة الغافر کی آیت (۶۷) کے تحت امام فخر الدین رازی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ   "" اللہ تعالی نے انسانی عمر کے تین مراتب بنائے ہیں، "‌‍"‌‍
بچپن،     جوانی،    بڑھاپا، 
         اور یہ ترتیب عین عقل کے مطابق ہے،کیونکہ انسان اپنی عمر کے ابتدا میں نشو و نما کے عرصہ میں ہوتا ہے اسی کا نام  ""طفولیت"" (بچپنہے، حتی کہ وہ نشو و نما کے کمال کو پہنچ جاتا ہے اور اسے کوئی ضعف و کمزوری لاحق نہیں ہوتی، یہی چیز  ""جوانی""  کہلاتی ہے، پھر وہ واپس آنا شروع ہوجاتا ہے، اور اس کے اندر کمزوری و نقص کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں، اور یہی شیخوخت ( بڑھاپاکا مرتبہ ہے۔
( التفسیر الکبیر للرازی
       طفولیت و بچپن کے ذکر کی علاوہ قرآن نے    "بچوں سے محبت کے اشارات کئے ہے"۔
" بچوں کے حقوق کا ذکر بھی قرآن نے اپنے مخصوص انداز میں کیا"۔
"‌‍ بچوں کے تحفظ کی طرف بھی متوجہ بھی  کیا ہے. "‌‍
         اگر قرآن کی آیات و تعلیمات پر ایک طائرانہ نظر بھی ڈالی جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ کوئی ایسا امر جو  بچوں اور بچیوں سے متعلق ہو یا بچپن سے تعلق رکھتا ہو اور اہم بھی ہو تو قرآن نے نہ صرف صراحتا یا اشارتاً  ذکر کیا ہے بلکہ بعض اہم ترین اور ضروری باتوں کا حکم بھی دیا ہے ۔
۲۴ / ۰۹ / ۲۰۱۷
جاری
ان شاء اللہ العزیز✒✒✒✒


مکمل تحریر >>

Monday, 18 September 2017

!!! تربیتِ اولاد اور مذہبِ اسلام !!! "قسط نمبر ایک" محرر !!! ابن الادریس میترانوی !!!


!!! تربیتِ اولاد اور مذہبِ اسلام !!!
"قسط نمبر ایک"
ـــــــــــــــــــــــ
محرر !!! ابن الادریس میترانوی !!!
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بچوں کے متعلق، ماں باپ سے قرآن کا مطالبہ.....
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

          کائنات میں سب سے افضل و اشرف مخلوق حضرتِ انسان ہے، جس کی ابتدا ابو البشر حضرت آدم علیہ الصلوة و السلام سے ہوئی ہے اور  سلسلہ تا ہنوز جاری ہے، جب تک اللہ تعالی کی مشیت ہوگی تب تک یہ سلسلۂ توالد و تناسل چلتا رہے گا.
      یہ انسان نہ صرف اشرف و اہم مخلوق ہے بلکہ اس دنیا کی بقاء و فنا بھی موقوف ہے اس کی صلاح و فساد پر، اس کے بننے اور سنورنے پر، جس کا حقیقی اور بنیادی تعلق انسان کی پیدائش اور زمانۂ طفولیت و بچپن سے ہے، کیونکہ جس طرح انسان کا ظاہری جسم درجہ بدرجہ اور رفتہ رفتہ بڑھتا ہے اسی طرح اس میں موجود پوشیدہ صلاحیتیں اور صفات  بھی پروان چڑھتی ہیں، وہ بڑا ہو کر یا تو ایک صالح و مُصلِح انسان کے روپ میں دنیا اور اھلِ دنیا کے لئے نفع بخش ثابت ہوتا ہے یا  پھر  ناکارہ و ناکام انسان بن کر مٹی کا ایک ایسا پتلا ہوتا ہے جو دوسروں کا ہی نہیں خود اپنی ذات کا بھی دشمن بن جاتا ہے۔
          ہر دو کا تعلق اس کے بچپن کے ساتھ ہے۔ جس طرح ایک نو خیز پودا جب زمین پر اُگتا ہے اور اس کی نشو و نما پر خاص توجہ دی جاتی ہے تو  نہ صرف وہ تناور درخت بنتا ہے بلکہ پھل دار و سایہ دار ہوتا ہے، جس سے نسلوں کی نسلیں نفع اٹھاتی ہیں، اور اگر اس پودا کو یوں ہی چھوڑ دیا جائے، اس کی نشو و نما ، تراش خراش، دیکھ بھال کی طرف توجہ نہ دی جائے اور ابتدا ہی میں اس میں کجی اور خرابی آگئی  تو تناور درخت  بن جانے کے بعد اس کی اصلاح کی تمام تر کوششیں ناکام ہوتی ہیں، اسی طرح نو مولود و نو خیز بچے ہوتے ہیں اگر ان بچوں کے ماں، پاب، مُرَبّیان ، اساتذہ اور سر پرستوں نے بچپن ہی سے تعلیم و تربیت کی طرف خاص توجہ دی اور  اصولِ تعلیم و تربیت کو مدِ نظر رکھ کر اس نو خیز کو پروان چڑھایا تو نہ صرف وہ اپنی ذات کا بلکہ پورے عالم کا خیر خواہ ہوگا، جس سے خلقِ عظیم کو نفع ہوگا اور اگر اس  میں کمی رہ گئی، نہ تعلیم کی فکر کی گئی، نہ تربیت کی طرف خاطر خواہ توجہ دی گئی تو یہ بچہ اپنی ذات کے ساتھ پوری انسانیت کا دشمن ہوگا۔
         اسکی زبان، اس کے اخلاق، اس کی عادات بلکہ زندگی کی تمام حرکات و سکنات سے امت و انسانیت کو نقصان ہوگا،  جس کی تمام تر ذمہ داری ماں باپ پر آتی ہے۔ اسی وجہ سے شریعت نے اس کی طرف خاص توجہ دی ہے، ابھی بچہ دنیا میں نہیں آیا ہے اور شریعت نے ماں پاب کو حکم دیا اور فکرمند کیا، اس کی اہمیت کا احساس دلایا ہے، اس پیدا ہونے والے بچے کے کے لئے جامع ترین الفاظ میں دعاء کروائی ہے۔
{ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا }
       (   سورة الفرقان / آیت نمبر ۷۴ )
ترجمہ......
" اے ہمارے پروردگار  !  ہمیں اپنی بیوی اور بچوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما، اور ہمیں پرہیز گاروں کا سر براہ بنادے "‌‍
( آسان ترجمۂ قرآن از مفتی تقی )
قرآن کی یہ دعائیہ آیت اور اس کا اسلوب، الفاظ جس کے اخیر میں خصوصا یہ کہلوایا  گیا اور دعاء کروائی گئی کہ

" باری تعالی ہم کو متقین کا امام بنا"
       
              مادرِ رحِم میں پروان چڑھنے والے بچہ کے لئے، گود میں پرورش پانے والے طفلِ نو مولود کے لئے، آنے والی نسلوں کے لئے یہ جذبہ پیدا کروایا گیا  کہ ان کے سر پرست اور ماں باپ انکی تربیت و تعلیم اس انداز سے کریں کہ یہ صرف نیک و صالح اور پرہیزگار و متقی ہی نہ بنیں بلکہ اس جماعتِ صلحاء کے ائمہ بنیں،
گروہِ  متقین کے مقتدٰی بنیں،
نیکو کاروں کے پیشوا بنیں،
پرہیز گاروں کے لئے مشعلِ راہ بنیں،
ملک و ملت کے لئے قائدانہ صلاحیت کے حامل ہوں، 
اصلاحی و انقلابی صفات و کردار کے حامل ہوں،
علم و عمل کی مشعلیں جلا کر کائناتِ انسانی کو منور و روشن کریں،
مجدِّدانہ افکار و نظریات کے حامل ہوں،
نہ صرف انکی تعلیم و تربیت ہو بلکہ ان میں اس میدان کی انقلابی روح پروان چڑھے،
امت کی بھنور میں پھنسی نیا کو کنارہ پر لگانے کی استعداد رکھتے ہوں  ۔
      اسلام ایسی ماں کی گود کا متقاضی ہے،
شریعت میں  ایسی پدرانہ شفقت مطلوب ہے جس کے سایہ تلے پروان چڑھنے والی نسل ہر آن اجتماعی مفاد کو مقدم رکھنے کا جذبہ رکھتی ہو، اور ذاتی اغراض کو پس و پیش کرکے ہمیشہ ملک و ملت کے تقاضوں کو پیشِ نظر رکھ کر زندگی بسر کرنے کا جذبہ ان کے دلوں میں موجزن ہو۔
        اب آپ ہی غور فرمائیں کہ گود میں پرورش پانے والی نسلوں اور پروان چرھنے والے بچوں  کی تعلیم و تربیت کی طرف متوجہ کرنے کیلئے اس سے بہتر، مختصر اور جامع، فصیح و بلیغ انداز کیا ہوسکتا ہے ؟؟   قرآنی آیت کا دعائیہ انداز اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ماں باپ اور اساتذہ نہ صرف بچوں کے لئے ان میں قائدانہ صلاحیت پیدا کرنے کی دعا کریں بلکہ ان تمام وسائل و اسباب کو بھی جانیں، سمجھیں، سیکھیں جن کے ذریعے بچوں میں یہ استعداد پیدا ہو سکے، اس لئے لئے ہر آنا ہر گھڑی فکر مند اور کوشاں رہیں، ان اصولوں کو اپنائیں جن کے توسط سے بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت کرسکیں ۔
     یہ بظاہر ایک مختصر دعا ہے جو قرآن نے سکھائی اور بتائی ہے، لیکن اس دعا کے الفاظ و اسلوب کے اختصار و جامعیت کے ساتھ ساتھ اس میں جو گہرائی اور پیغام ہے اور اس کی جو روح ہے وہ اہم ترین اور نہایت ضروری امر ہے۔

۱۷ / ۰۹ / ۲۰۱۷

جاری

ان شاء اللہ العزیز......   ✒✒✒✒✒
مکمل تحریر >>

Sunday, 10 January 2016