!!! تربیتِ اولاد اور مذہبِ اسلام !!!
!!! قسط
نمبر پانچ !!!
ــــــــــــــــــــــــ
مُحرر
!!! ابن الادریس میترانوی !!!
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
" قرآن میں تحفظِ اطفال کا اہتمام
" ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
قرآن
نے جس طرح طفل و طفولیت ( بچہ اور بچپن ) کے مرحلوں کا ذکر کیا ہے، بچوں سے محبت
کے متعلق جو معتدلانہ احکامات دیئے ہیں اور جس طرح ان کے حقوق کا ذکر کیا ہیں اسی
طرح بچوں کی حفاظت اور ان کے تحفظ کا بھی اہتمام کیا ہے، مختلف سورتوں اور آیات میں
احکامات نازل فرمائے ہیں، اس بات میں کوئی
شک نہیں کہ ہر وہ بات جو بچوں کے تحفظ سے متعلق ہو اس کو قرآن نے اہتمام کے ساتھ ذکر کیا ہے، اور تربیت
کرنے والوں کی بھی خوب رہنمائی کی ہے، چاہے وہ ماں کے پیٹ میں تحفظ کے قبیل سے ہو یا
نو مولود کے حسب و نسب کے تعلق سے، یا پھر
اس کے دودھ پلانے، نان نفقہ، پرورش اور وراثت ہی کی تعلق سے کیوں نہ ہو۔
بچوں
کے تحفظ کے سلسلہ میں ایک اہتمام قرآن نے یہ کیا ہے کہ اس کے نسب کی حفاظت کا حکم
دیا تاکہ وہ بچہ اپنے خاندان میں ذی شان
بن کر زندگی بسر کرے اور معاشرہ میں بے حیثیت سمجھ کر اس کو اس کے حقِ میراث اور
جائز حقوق سے محروم نہ کردیا جائے، چنانچہ
ہم دیکھتے ہیں کہ قرآنِ مجید نے اس اہم ترین پہلو کو واضح فرماتے ہوئے پوری امتِ
مسلمہ کو ان الفاظ میں مامور و مخاطب کیا
ہے۔
{ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ ۚ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ
فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ ۚ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُم
بِهِ وَلَٰكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا
}
( سورة الاحزاب / ۵)
ترجمہ............
" تم اُن ( منھ بولے بیٹوں ) کو ان کے اپنے
باپوں کے نام سے پکارا کرو ـ یہی
طریقہ اللہ کے نزدیک پورے انصاف کا ہے ـ اور اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں، تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں ـ اور تم سے جو غلطی ہوجائے، اس کی
وجہ سے تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، البتہ جو بات تم اپنے دِلوں سے جان بوجھ کر کرو
( اس پر گناہ ہے )، اور بیشک اللہ بہت
بخشنے والا، بڑا مہربان ہے ـ "
( آسان ترجمۂ قرآن )
نسب و
نسبت کے متعلق احادث مبارکہ میں بھی واضح الفاظ میں رہنمائی کی گئی ہیں، بلکہ عملی
نمونہ بھی موجود ہے۔ ایک حدیث میں وارد ہے کہ.....
" اخبرنا عبد الواحد المليحي، أخبرنا أحمد بن
عبد الله النعيمي، أخبرنا محمد بن يوسف، أخبرنا محمد بن إسماعيل، أخبرنا معلى بن
أسد، أخبرنا عبد العزيز بن المختار، أخبرنا موسى بن عقبة، حدثني سالم عن عبد الله
بن عمر أن زيد بن حارثة مولى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال : ما كنا ندعوه
إلا زيد بن محمد حتى نزل القرآن
( تفسیر بغوی صفحہ /۳۱۸)
ترجمہ.........
" حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنھما
فرماتے ہے کہ زید ابن حارثہؓ کو ہم آپ ﷺ کی طرف منسوب کرتے اور " زید بن محمدﷺ
"کے نام سے پکارا کرتے تھے، لیکن جب اس آیت میں ممانعت نازل ہوئی تو ہم سب زید
بن حارثہؓ ہی کہنے لگیں۔
زندگی
کا بنیادی حق نسب ہے جس کو قرآن نے تحفظ دیا اور حکم دیا کہ بچوں کو ان کے حقیقی
والد کی طرف منسوب کیا جائے تاکہ اس کا تحفظ ہو۔
اور
ایک روایت ہے جس میں آپﷺ نے صراحتاً اس بات سے روکا ہے کہ بچوں کو ان کے اصل والد
کے علاوہ کسی غیر کے ساتھ منسوب کیا جائے ۔
{ عن
عثمان بن سعد رضي الله عنه قال
سمعت
النبي صلى الله عليه وسلم يقول "
من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبیہ فالجنة عليه حرام" فذكرته لأبي بكرة فقال و سمعته أذناي و وعاه
قلبي من رسول الله صلى الله عليه و سلم
( صحیح بخاری کتاب الفرائض )
حضورﷺ
کا ارشاد گرامی ہے ........
" آپﷺ
ارشاد فرماتے ہیں کہ جس نے جانتے ہوئے کسی کو اس کے والد کے علاوہ غیر کی طرف
منسوب کیا تو اس پر جنت حرام ہے"۔
معلوم
ہوا کہ بچے کا اپنے حقیقی باپ کی طرف منسوب ہونا اسے ضائع ہونے ، گمراہی اور آوارگی
سے محفوظ رکھتا ہے، اور باپ کے بغیر بچے
کا وجود اس کے لئے بہت سی معاشراتی اذیتوں
اور تکلیفوں کا سبب ہے ـ
قرآن
اس کے علاوہ چند ایسے امور اور ایسی باتوں کی حفاظت کا حکم بھی والدین اور
سرپرستوں کو دیتا ہے جو بچے کئے لئے اہم ترین ہیں۔
چنانچہ
ارشار وارد ہوا :
{ وَالْوَالِدَاتُ
يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَۚ }
( سورة البقره / ٢٣٣)
ترجمہ..........
" اور مائیں اپنے بچوں کو دوسال کامل دودھ
پلایا کریں، یہ مدت اس کے لئے ہے جو شیر
خوارگی کی تکمیل کرنا چاہے"۔
یقینًا
بچہ اپنی پیدائش کے بعد اور ابتدائے حیات میں اس قابل نہیں ہوتا کہ وہ از خود ایسی
غذا استعمال کرسکے جو اس کی زندگی کی حفاظت اور نشو و نما کے لئے ضروری ہے، اس کے لئے یہی مناسب تھا کہ وہ رضاعت کا طریقہ اختیار کرے یعنی ماں یا کوئی دودھ
پلانے والی اسے چند مخصوص دنوں تک دودھ پلائے، اس کا بھی اللہ تعالی نے قرآن میں
حکم نازل فرمادیا کہ کامل دو سال دودھ پلائے،
کیونکہ اللہ تعالی خوب جانتے ہیں کہ دوسال کی مدت بچہ کے نشو و نما کے لئے
ہر طرح سے بہترین ہوتی ہے۔
دور
حاضر کے ماہر اطباء نے اپنی طبی ابحاث و تحقیقات میں اس بات کو ثابت کیا ہے کہ دو
سال کی مدت بچہ کی جسمانی اور ذہنی نشو و نما کے اعتبار سے ضروری اور لازمی مدت
ہے۔
((( جدید
طبی اور سائنسی تحقیقات کی تفصیلات، مناسب موقع پر ذکر کی جائے گی ان شاء اللہ
العزیز )))
۱۵ \ ۱۰ \ ۲۰۱۷
juneddhukka@gmail.com
جاری
ان
شاء اللہ العزیز....... ✒✒✒✒✒
0 comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔