Pages

Thursday, 26 October 2017

!!! تربیتِ اولاد اور مذہبِ اسلام !!! "قسط نمبر پانچ " . . . . محرر !!! ابن الادریس میترانوی !!!

!!!  تربیتِ اولاد اور مذہبِ اسلام  !!!
           !!! قسط نمبر پانچ !!!
            ــــــــــــــــــــــــ
   مُحرر !!!  ابن الادریس میترانوی  !!!
         ــــــــــــــــــــــــــــــــــ

" قرآن میں تحفظِ اطفال کا اہتمام‌ "                                               ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
             
قرآن نے جس طرح طفل و طفولیت ( بچہ اور بچپن ) کے مرحلوں کا ذکر کیا ہے، بچوں سے محبت کے متعلق جو معتدلانہ احکامات دیئے ہیں اور جس طرح ان کے حقوق کا ذکر کیا ہیں اسی طرح بچوں کی حفاظت اور ان کے تحفظ کا بھی اہتمام کیا ہے، مختلف سورتوں اور آیات میں احکامات نازل فرمائے ہیں،  اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہر وہ بات جو بچوں کے تحفظ سے متعلق ہو اس کو  قرآن نے اہتمام کے ساتھ ذکر کیا ہے، اور تربیت کرنے والوں کی بھی خوب رہنمائی کی ہے، چاہے وہ ماں کے پیٹ میں تحفظ کے قبیل سے ہو یا نو مولود کے حسب و نسب کے تعلق سے،  یا پھر اس کے دودھ پلانے،  نان نفقہ،  پرورش اور وراثت ہی کی تعلق سے کیوں نہ ہو۔
           بچوں کے تحفظ کے سلسلہ میں ایک اہتمام قرآن نے یہ کیا ہے کہ اس کے نسب کی حفاظت کا حکم دیا تاکہ وہ بچہ اپنے خاندان  میں ذی شان بن کر زندگی بسر کرے اور معاشرہ میں بے حیثیت سمجھ کر اس کو اس کے حقِ میراث اور جائز حقوق سے محروم نہ کردیا جائے،  چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآنِ مجید نے اس اہم ترین پہلو کو واضح فرماتے ہوئے پوری امتِ مسلمہ کو ان الفاظ  میں مامور و مخاطب کیا ہے۔
{ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ ۚ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ ۚ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُم بِهِ وَلَٰكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا }
( سورة الاحزاب / ۵)
ترجمہ............
" تم اُن ( منھ بولے بیٹوں ) کو ان کے اپنے باپوں کے نام سے پکارا کرو ‌ـ یہی طریقہ اللہ کے نزدیک پورے انصاف کا ہے ـ  اور اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں،  تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں ـ اور تم سے جو غلطی ہوجائے، اس کی وجہ سے تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، البتہ جو بات تم اپنے دِلوں سے جان بوجھ کر کرو ( اس پر گناہ ہے )،  اور بیشک اللہ بہت بخشنے والا،  بڑا مہربان ہے ـ "
( آسان ترجمۂ قرآن )
          نسب و نسبت کے متعلق احادث مبارکہ میں بھی واضح الفاظ میں رہنمائی کی گئی ہیں، بلکہ عملی نمونہ بھی موجود ہے۔ ایک حدیث میں وارد ہے کہ.....
" اخبرنا عبد الواحد المليحي، أخبرنا أحمد بن عبد الله النعيمي، أخبرنا محمد بن يوسف، أخبرنا محمد بن إسماعيل، أخبرنا معلى بن أسد، أخبرنا عبد العزيز بن المختار، أخبرنا موسى بن عقبة، حدثني سالم عن عبد الله بن عمر أن زيد بن حارثة مولى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال : ما كنا ندعوه إلا زيد بن محمد حتى نزل القرآن
( تفسیر بغوی صفحہ /۳۱۸)
ترجمہ.........
" حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنھما فرماتے ہے کہ زید ابن حارثہؓ کو ہم آپ ﷺ کی طرف منسوب کرتے اور " زید بن محمدﷺ "کے نام سے پکارا کرتے تھے، لیکن جب اس آیت میں ممانعت نازل ہوئی تو ہم سب زید بن حارثہؓ ہی کہنے لگیں۔
            
        زندگی کا بنیادی حق نسب ہے جس کو قرآن نے تحفظ دیا اور حکم دیا کہ بچوں کو ان کے حقیقی والد کی طرف منسوب کیا جائے تاکہ اس کا تحفظ ہو۔
اور ایک روایت ہے جس میں آپﷺ نے صراحتاً اس بات سے روکا ہے کہ بچوں کو ان کے اصل والد کے علاوہ کسی غیر کے ساتھ منسوب کیا جائے ‌۔
عن عثمان بن سعد رضي الله عنه قال
سمعت النبي صلى الله عليه وسلم  يقول ‌‍ " من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبیہ فالجنة عليه حرام"‌‍  فذكرته لأبي بكرة فقال و سمعته أذناي و وعاه قلبي من رسول الله صلى الله عليه و سلم
( صحیح بخاری کتاب الفرائض )
حضورﷺ کا ارشاد گرامی ہے ........
آپﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ جس نے جانتے ہوئے کسی کو اس کے والد کے علاوہ غیر کی طرف منسوب کیا تو اس پر جنت حرام ہے"۔
          معلوم ہوا کہ بچے کا اپنے حقیقی باپ کی طرف منسوب ہونا اسے ضائع ہونے ، گمراہی اور آوارگی سے محفوظ رکھتا ہے،  اور باپ کے بغیر بچے کا وجود اس  کے لئے بہت سی معاشراتی اذیتوں اور تکلیفوں کا سبب ہے ـ
         قرآن اس کے علاوہ چند ایسے امور اور ایسی باتوں کی حفاظت کا حکم بھی والدین اور سرپرستوں کو دیتا ہے جو بچے کئے لئے اہم ترین ہیں۔
چنانچہ ارشار وارد ہوا :
وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَۚ }
( سورة البقره / ٢٣٣)
ترجمہ..........
" اور مائیں اپنے بچوں کو دوسال کامل دودھ پلایا کریں،  یہ مدت اس کے لئے ہے جو شیر خوارگی کی تکمیل کرنا چاہے‌"۔
             
        یقینًا بچہ اپنی پیدائش کے بعد اور ابتدائے حیات میں اس قابل نہیں ہوتا کہ وہ از خود ایسی غذا استعمال کرسکے جو اس کی زندگی کی حفاظت اور نشو و نما کے لئے ضروری ہے،   اس کے لئے یہی مناسب تھا کہ وہ رضاعت  کا طریقہ اختیار کرے یعنی ماں یا کوئی دودھ پلانے والی اسے چند مخصوص دنوں تک دودھ پلائے، اس کا بھی اللہ تعالی نے قرآن میں حکم نازل فرمادیا کہ کامل دو سال دودھ پلائے،  کیونکہ اللہ تعالی خوب جانتے ہیں کہ دوسال کی مدت بچہ کے نشو و نما کے لئے ہر طرح سے بہترین ہوتی ہے۔
        دور حاضر کے ماہر اطباء نے اپنی طبی ابحاث و تحقیقات میں اس بات کو ثابت کیا ہے کہ دو سال کی مدت بچہ کی جسمانی اور ذہنی نشو و نما کے اعتبار سے ضروری اور لازمی مدت ہے۔
(((  جدید طبی اور سائنسی تحقیقات کی تفصیلات، مناسب موقع پر ذکر کی جائے گی ان شاء اللہ العزیز )))
۱۵ \ ۱۰ \ ۲۰۱۷
juneddhukka@gmail.com
جاری
ان شاء اللہ العزیز....... ✒✒✒✒✒

مکمل تحریر >>

Wednesday, 11 October 2017

!!! تربیتِ اولاد اور مذہبِ اسلام !!! "قسط نمبر چار" . . . . محرر !!! ابن الادریس میترانوی !!!

!!!   تربیتِ اولاد اور مذہبِ اسلام  !!!
          
    !!!  قسط نمبر چار       !!!
         ـــــــــــــــــــــــــــــــ    
   محرر !!! ابن الادریس میترانوی !!!
     ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  "قرآن میں بچوں کے حقوق کا ذکر"
   ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
   
        اللہ تعالی نے جس طرح قرآن میں بچوں کے مختلف مراحل کا ذکر کیا ہیں، بچوں سے محبت کی طرف توجہ دلائی ہیں، اسی طرح بچوں کے حقوق سے متعلق پہلو کو بھی بہت زیادہ اہتمام کے ساتھ اجاگر فرمایا ہیں۔۔۔
   چنانچہ جب بچہ شکمِ مادر ( ماں کے پیٹمیں ہوتا ہے تو قرآن کسی کو حق نہیں دیتا کہ وہ "اس کی زندگی کے ساتھ دست درازی اور زیادتی کرے"
اسی لئے "فقر و فاقہ اور افلاس" کے ڈر سے بچوں کے مارنے کو ناجائز قرار دیا گیا ہے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے..
{وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ ۖ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ ۚ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرًا} (سورة بنی اسرائیل / ۳۱)
ترجمہ........
"اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل مت کرو - ہم انہیں بھی رزق دیں گے، اور تم کو بھی - یقین جانوں ان کا قتل کرنا بڑی بھاری غلطی ہے "
( آسان ترجمۂ قرآن )
اس آیت میں اللہ تعالی نے بچوں کے حقوق تلفی سے متعلق ایک ایسے گناہ اور جاہلی رسم کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے، جو پورے معاشرے میں ایک وباء کی طرح پھیل چکی تھی،  بلکہ اب تک  وہ زمانہ بھر میں رائج ہے، ہمہ جہتی  ترقیات کے اس دور میں بھی یہ وباء "مسئلۂ لا ینحل" بنی ہوئی ہے، جس کا ذکر مولانا عبد الماجد دریابادیؒ  اپنی تفسیر میں اس طرح کرتے ہیں۔۔
      " قتلِ اولاد کی حمایت میں ایک بڑی دلیل جاہلی قوموں کے ہاتھ میں والدین کی مفلسی رہی ہے، اور اسی دلیل سے کام لیکر آج بیسویں صدی میں بڑے طمطراق کے ساتھ اور خوشنما اصطلاحات کے پردے میں " منعِ حمل" اور " خاندانی منصوبہ بندی " کی تحریک کو اٹھایا گیا ہے بلکہ اب تو نوبت جوازِ اسقاط کی بھی آگئی ہے'
(تفسیرِ ًماجدی، جلد (۳) صفحہ (۳۴)
             تفسير ا بن كثير میں محدث کبیر علامہ عماد الدین ابن ؒکثیرؒ  تحریر فرماتے ہیں کہ۔۔

"هذه الآية الكريمة دالة على أن اللّه تعالى أرحم بعباده من الوالد بولده، لأنه نهى عن قتل الأولاد، كما أوصى الآباء بالأولاد في الميراث، وكان أهل الجاهلية لا يورثون البنات، بل كان أحدهم ربما قتل ابنته لئلا تكثر عيلته، فنهى اللّه تعالى عن ذلك"
(تفسیر ابن کثیر، جلد، ۳ صفحہ، ۵۵ )
       یہ آیتِ کریم اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں پر بہت زیادہ مہربان ہے بمقابل انکے آباء کے، شریعت نے جس اہتمام کے ساتھ  میراث کی طرف متوجہ کیا اسی طرح بچوں اور بچیوں کے حقوق اور قتل سے روک تھام کی طرف بھی توجہ کی ہے۔
              اللہ تعالی نے بچوں اور انکے ماں باپ کے رزق کا ذمہ اپنے اوپر لیا ہے، اور صاف بتادیا کہ معصوم کو قتل کرنا عظیم ترین گناہ ہے۔ "اس سے بڑا اور کیا گناہ ہوسکتا کہ کہ دلوں سے رحمت و شفقت کا جذبہ ختم کردیا جائے"۔
       قرآن یتیموں کے حقوق کی حفاظت کے لئے اپنے مانے والوں کو ابھارتا اور آمادہ کرتا ہے' بہت سی آیات یتیم بچوں کے حقوق کی صیانت و حفاظت کی دعوت دیتی ہیں' اولاً سورہ نساء کی آیات کا ذکر کرتا ہوں۔
{وَآتُواْ الْيَتَامَى أَمْوَالَهُمْ وَلاَ تَتَبَدَّلُواْ الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ وَلاَ تَأْكُلُواْ أَمْوَالَهُمْ إِلَىأَمْوَالِكُمْ إِنَّهُ كَانَ حُوباً كَبِيراً} (سورة النساء / ۲)
ترجمہ .........
"اور یتیموں کوان کے مال دیدو، اور اچھے مال کو خراب مال سے تبدیل نہ کرو ' اور ان ( یتیموں) کا مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر مت کھاؤ ' بیشک یہ بڑا گناہ ہے "
( آسان ترجمۂ قرآن )

اسی سورة میں آگے اس طرح  ارشاد فرمایا کہ۔۔۔۔۔
{وَابْتَلُواْ الْيَتَامَى حَتَّىَ إِذَا بَلَغُواْ النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُم مِّنْهُمْ رُشْداً فَادْفَعُواْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَلاَ تَأْكُلُوهَا إِسْرَافاً وَبِدَاراً أَن يَكْبَرُواْ}
(سورة النساء / ۶)
ترجمہ .......
اور تم یتیم بچوں کو جانچتے رہو ' یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے لائق عمر کو پہنچ جائیں ' تو اگر تم یہ محسوس کرو کہ ان میں سمجھ داری آچکی ہے تو ان کے مال انہی کے حوالے کردو ـ اور یہ مال فضول خرچی کرکے اور یہ سوچ کر جلدی جلدی نہ کھا بیٹھو کہ وہ کہیں بڑے نہ ہو جائیں ـ
( آسان ترجمۂ قرآن )
      
          ان دو آیات میں اللہ تعالی نے نہ صرف یتیم بچوں کہ اموال کو ضائع کرنے سے منع فرمایابلکہ اسکی حفاظت و صیانت کی ذمہ داری کو امانتداری کے ساتھ ادا کرنے کا حکم بھی فرمایا ہے اور اس کام میں اس درجہ احتیاط کی تاکید فرمائی ہے کہ یتیم کے مال کو اپنے مال سے الگ رکھنے کا حکم دیا۔
         اگر قرآن کے الفاظ اور اس کے اسلوب  پر غور کیا جائے تو یہ بات بالکل عیاں ہوجاتی ہے کہ قرآن ہر اس امکانی پہلو کو بھی واضح کرتا ہوا نظر آتا ہے جو بچوں کی جان و مال' تعلیم و تربیت میں کوتاہی کا سبب ہوسکتا ہو جس پر  اللہ تعالی نے صراحتًا یا اشارتاً قرآن میں اس پر روک لگادی ہے،
مزید چند آیات اور ترجمہ کو ذکرکرتا ہوں  تاکہ اندازہ ہو کہ اللہ تعالی نے ان امور پر کس قدر توجہ دلائی ہے ۔
(۱)  { كَلَّا بَلْ لَا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ ۝ وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ ۝ وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَمًّا۝
(سورة الفجر / ۱۷ - ۱۹)
ترجمہ........
ہرگز ایسا نہیں چاہیئے ـ  صرف یہی نہیں، بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۝  اور مسکینوں کو کھانا کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے۝ اور میراث کا سمیٹ سمیٹ کر کھاتے ہو۝
( آسان ترجمۂ قرآن )

(۲) {فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَر} ( الضحی / ۹)
ترجمہ.......
"‌‍ اب جو یتیم ہے،  تم اس پر سختی مت کرو "‌‍
( آسان ترجمۂ قرآن )

(۳) {أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّين ۝ ِفَذَلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيم َ۝ ( سورة الماعون / ۱ - ۲)
ترجمہ........
"‌‍ کیا تم نے اسے دیکھا جو جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے ؟ ‌۝ وہ ہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۝ 
( آسان ترجمۂ قرآن )
(۴)   {وَما لَكُمْ لا تُقاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْ هذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُها وَاجْعَلْ لَنا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيراً} ( سورة النساء / ۷۵)
ترجمہ ........ 
"‌‍ اور ( اے مسلمانو ! ) تمہارے پاس کیا جواز ہے' کہ اللہ کے راستے میں اور ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کے خاطر نہ لڑو جو یہ دعا کررہے ہیں کہ "‌‍ اے ہمارے پروردگار ! "‌‍  اِس بستی سے نکال لایئے جس کے باشندے ظلم توڑ رہے ہیں،  اور ہمارے لئے اپنی طرف سے کوئی حامی پیدا کردیجئے، اور مارے لئے اپنی طرف سے کوئی مددگار کھڑا کردیجئے "‌‍
( آسان ترجمۂ قرآن )
آیتِ کریمہ پر غور کیجئے  کہ "جہاد" جیسے عظیم الشان فریضے پر آمادہ کرنے کے لئے اللہ تعالی نے بے وسیلہ و حیلہ مردوں و عورتوں کے ساتھ ناتواں  اور ضعیف بچوں کا ذکر بھی کیا  اسی سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ حقوقِ اولاد و اطفال اور معصوم چھوٹے بچوں کے حقوق کی حفاظت کا قرآن نے کس قدر اہتمام فرمایا ہے' اور مختلف آیات و اسلوب میں باربار ذکر کیا ہے...

یہ چند آیات کو بطور اشارہ یہاں ذکر کیا گیا ہے اس مختصر مضمون میں ان کی تفسیر و تفصیل  کی گنجائش نہیں ہے
۸ / ۱۰ / ۲۰۱۷
جاری
ان شاء اللہ العزیز ✒✒✒✒✒

مکمل تحریر >>

Wednesday, 4 October 2017

!!! تربیتِ اولاد اور مذہبِ اسلام !!! "قسط نمبر تین" . . . . محرر !!! ابن الادریس میترانوی !!!

!!! تربیتِ اولاد اور مذہبِ اسلام !!!
           !!! قسط نمبر تین !!!
            ــــــــــــــــــــــ
    محرر!!! ابن الادریس میترانوی !!!
        ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
" قرآن میں بچوں سے محبت کے اشارات"
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
            
            قرآن نے انسان و انسانیت کے مفاد و نفع کی ہر اس بات کا ذکر صراحتاً یا اشارتاً کیا ہے، جو ضروری ہے، قرآن نے بچوں کی تعلیم و تربیت کے عنوان سے بھی ان تمام باتوں اور احکامات کو اصولی اور کُلّی پیرائے میں پیش کردیا ہے، جو بچوں کے مستقبل کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں، ان اصولی اشارات میں سے ایک حکم بچوں سے محبت کرنا ہے،  جو انسانی فطرت کا اٹوٹ حصہ ہے، بچوں کی تربیت میں ماں، باپ، اور  سرپرستوں کا اپنے ماتحت بچوں سے شفقت و محبت کا بڑا دخل ہے، اس لئے قرآن میں اس پہلو پر نہایت لطیف انداز میں اشارے کئے گئے ہیں، اسی طرح قرآن نے یہ بات بھی بیان کی ہے کہ بچے زندگی کی نعمت، زینت اور رونق ہیں، چنانچہ ارشاد ہوا: 
{ الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَاباً وَخَيْرٌ أَمَلاً }
( سورة الکہف/۴۶ )
ترجمہ.....
(  مال اور اولاد دنیوی زندگی کی زینت ہیں،  اور جو نیکیاں پائدار رہنے والی ہیں، وہ تمہارے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں، اور امید وابستہ کرنے کے لئے بھی بہتر ہیں )
( آسان ترجمۂ قرآن از مفتی تقی )
    
   قدیم زمانہ سے ہی لوگ مال و اولاد کے بارے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کیا کرتے تھے،
اللہ عز و جل کا فرمان ہے:
{ َقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا }
( سورة السباء /۳۵)
ترجمہ.........
(  اور کہا کہ "  ہم مال و اولاد میں تم سے زیادہ ہیں، )
  ( آسان ترجمۂ قرآن از مفتی تقی )
            قرآنی اشارات میں سے ایک اشارہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی اولاد کا ذکر انسانی فطرت کی پسندیدہ و مرغوب ترین چیزوں میں سے  کرتے ہیں، جن کی محبت لوگوں کو خوشنما معلوم ہوتی ہے-  فرمایا:
{زُُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاء وَالْبَنِين}َ
( سورة اٰل عمران /۱۴)
ترجمہ........
(  لوگوں کے لئے ان چیزوں کی محبت خوشنما بنادی گئی، جو ان کی نفسانی خواہشات کے مطابق ہوتی ہیں،  یعنی عورتیں اور بچے ) 
( آسان ترجمۂ قرآن از مفتی تقی )
                   اسی طرح بہت سے قرآنی ارشادات ہمیں بچوں سے انسیت و محبت کی رغبت دلاتے ہیں، اللہ تعالی کی دیگر بہت سی نعمتوں کی طرح اطفال و اولاد بھی ایک بڑی نعمت ہے،
فرمانِ الہی ہے......
{ وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّات ٍوَ يَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا }
(سورة النوح/۱۲)
ترجمہ...........
(  اور تمہارے مال اور اولاد، میں ترقی دےگا، اور تمہارے لئے باغات پیدا کرے گا ،  اور تمہارے لئے نہریں مہیا کرے گا )
  ( آسان ترجمۂ قرآن از مفتی تقی )
اور ایک مقام پر ارشاد وارد ہوا
{و َأَمْدَدْنَاكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَجَعَلْنَاكُمْ أَكْثَرَ نَفِيرًا }
( سورة الاسراء / ۶)
ترجمہ......
( اور تمہارے مال و دولت میں اضافہ کیا، اور تمہاری نفری بڑھا دی )
( آسان ترجمۂ قرآن از مفتی تقی )
یہ تمام ارشاداتِ ربانیہ اور آیاتِ قرآنیہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ لوگوں کا بچوں سے محبت و الفت کرنا نہ صرف بجا ہے بلکہ یہ ایک فطری بات ہے،
        اس کے علاوہ ہم اس مسئلہ کو دوسرے پہلو سے بھی دیکھتے ہیں،
اگر بچوں کی صحیح تربیت کا انتظام اور معقول تعلیم کا نظم نہ کیا گیا تو یہ بچے اپنے والدین اور خاندان کے لئے باعثِ عذاب اور وبالِ جان بھی بن جاتے ہیں،
اس پہلو کو قرآن کریم یوں اُجاگر کرتا ہے:
{وَاعْلَمُوا أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَأَنَّا للَّهَ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ}
(سورة انفال/۲۸)
ترجمہ........
( اور یہ بات سمجھ لو کہ تمارے مال اور تمہاری اولاد ایک آزمائش ہیں،  اور یہ کہ ایک عظیم انعام اللہ ہی کے پاس ہیں )
( آسان ترجمۂ قرآن از مفتی تقی )
اور ایک جگہ اس طرح ارشاد فرمایا:
{ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِن ْأَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ }
(سورة التغابن / ۱۴)
ترجمہ............
( اے ایمان والو  !  تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے کچھ تمہارے دشمن ہیں ، اس  لئے ان سے ہوشیار  رہو )
          تعلیم و تربیت کا فقدان یا حد سے زیادہ لاڈ، پیار جو اولاد کو بگاڑ دے اس پر قرآن نے روک لگادی ہے،  مستقبل کی فلاح و بہبود اور معاشرتی اصلاح کے لئے قرآن نے اعتدال قائم کیا ہے اور اس طرح بچوں کی تربیت کی طرف متوجہ کیا ہے کہ ماں باپ ، مربیین، مصلحین، سرپرست، اساتذہ، اور ٹیچرز حضرات قرآن سے مکمل رہبری حاصل کرسکتے ہیں اسی لئے قرآن نے جہاں دوسرے پہلو کو مد نظر رکھا ہے، وہاں اس بات کا بھی اہتمام کیا ہے کہ نیک اولاد کے حصول کے لئے بار بار اور ہمیشہ اللہ تعالی کے حضور عاجزی کے ساتھ دعا بھی کرتے رہیں کہ اللہ صالح اولاد عطا کرے، حضرت زکریا علیہ السلام جسے جلیل القدر پیغمبر کی دعا کو اللہ سبحانہ وتعاليٰ نے قرآن کریم میں اس طرح ذکر فرمایا  : کہ

{ هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاء}

(سورة اٰل عمران / ۳۸َ)
ترجمہ........
( پروردگار ! اپنے پاس سے مجھے نیک اولاد عطا فرما' بے شک تو دعاؤں کو سننے والا ہے۔ )
01/ 10 / 2017
juneddhukka3366@gmail.com
جاری
ان شاء اللہ العزیز✒✒✒✒✒

مکمل تحریر >>

!!! تربیتِ اولاد اور مذہبِ اسلام !!! "قسط نمبر دو" . . . . محرر !!! ابن الادریس میترانوی !!!

!!!  تربیتِ اولاد اور مذہبِ اسلام  !!!
     
      !!!   قسط نمبر دو !!!
           ـــــــــــــــــــــــ
   محرر !!!  ابن الادریس میترانوی !!!
     ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

     !!! بچپن کا ذکر قرآن میں !!!
     ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  
            بچے اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہیں ، اللہ تعالی نے بطور امتحان و آزمائش ہمارے سپرد کیا ہے، بچے مستقبل کا سرمایہ ہیں، بچے قوم کی امانت ہیں، بچوں کی تعمیر مستقبل کی تعمیر ہے، بچوں کی اصلاح آنے والے وقت کی اصلاح ہے، کیونکہ انسان کی پوری زندگی کا مدار اس کے اپنے بچپن کے شب و روز پر ہے، کامیابی و ناکامی  زمانہء طفولیت کی تعلیم و تربیت پر موقوف ہے، اسی وجہ سے اسلام نے بچوں کی تعلیم و تربیت پر خاطر خواہ توجہ دی ہے، اللہ تعالی نے قرآنِ مجید میں مختلف مقامات پر الگ الگ انداز سے اس کی اہمیت کو واضح فرمایا ہیں، قرآنِ کریم میں بچوں اور بچیوں کے متعلق بے شمار ہدایات و ارشادات موجود ہیں، یہ کتابِ الہی فوائد و بدائع سے بھری ہوئی ہے، اور یہ ارشادات انتہائی فکر انگیز اور مؤثر بھی ہیں،
      
     ہر انسان زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے، جس کا ذکر قرآن اپنے مخصوص انداز میں اس طرح کرتا ہے
(۱وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ ۝
       (سورة المؤمون / آیة نمبر ۱۲‌‍
ترجمہ.....
انسان کو چنی ہوئی مٹی سے پیدا کیا،
(۲) فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ ۝  خُلِقَ مِن مَّاء دَافِقٍ.۝
   ( سورة الطارق / آیت نمبر  ۵/۶ )
  
ترجمہ........
اب انسان کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ کس چیز سے پیدا کیا گیا  ہے ۝ ایک اُچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا  ۝
( آسان ترجمۂ قرآن از مفتی تقی )

(۳) يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاكُم مِن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِن مُّضْغَةٍ مُّخَلَقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ إِلَي أَجَلٍ مُّسَمّي ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلاً ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّي وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَي أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلاَ يَعْلَمَ مِن بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئاً وَتَرَي الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنْبَتَتْ مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ ۝
  ( سورة الحج آیت نمبر ۵ )
ترجمہ......
اے لوگو !  اگر تمہیں دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں کچھ شک ہے تو ( ذرا سوچو کہ )  ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا،  پھر نطفے سے،  پھر جمے ہوئے خون سے، پھر ایک گوشت کے لوتھڑے سے جو ( کبھی) پورا بن جاتا ہے اور ( کبھی ) پورا نہیں بنتا ، تاکہ ہم تمہارے لئے ( تمہاری ) حقیقت کھول کر بتادیں، اور ہم ( تمہیں) ماؤں کے پیٹ میں جب تک چاہتے ہیں، ایک متعین مدت تک ٹھرا رکھتے ہیں، پھر تمہیں ایک بچہ کی شکل میں باہر لاتے ہیں، پھر ( تمہیں پالتے  ہیں ) تاکہ تم اپنی بھر پور عمر تک پہنچ جاؤ، اور تم میں سے بعض وہ ہیں جو ( پہلے ہی ) دنیا سے اٹھا لئے جاتے ہیں، اور تمہی میں سے بعض وہ ہوتے ہیں جن کو بد ترین عمر ( یعنی انتہائی بڑھاپے ) تک لوٹا دیا جاتا ہیں، یہاں تک کہ وہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی کچھ نہیں جانتے،
( آسان ترجمۂ قرآن از مفتی تقی )

انسان کو اللہ تعالی نے ایک خاص قسم کی مٹی سے بنایا،
پھر نطفہ سے گزارا،
اس کے بعد خون کا لوتھڑا ہوا،
پہر ہڈیاں بنیں،
روح پھونکی گئی،
اور ایک مدت کے بعد انسانِ کامل بنا کر اللہ تعالی اس کو بچہ کی شکل میں دنیا میں بھیجتے ہے، جو ابتدا میں بالکل ناتواں اور کمزور ہوتا ہے، اس کے بعد وہ بچہ قوت و عقل اور جسم و بدن کے کمال اور ظاھری و باطنی قوتوں کی حدِ تمام تک پہنچتا ہے،   "" خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتا ہے""
ان ادوار و احوال کے بعد وہ بچہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جاتا ہے بالآخر وہ  بحکمِ خداوندی عمر گزار کر زندگی کا سفر پورا کرلیتا ہے..........
          یہ ربانی تصویر ہے جس کو اللہ عز و جل نے قرآن میں ذکرکیا ہے.
سورة الغافر کی آیت (۶۷) کے تحت امام فخر الدین رازی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ   "" اللہ تعالی نے انسانی عمر کے تین مراتب بنائے ہیں، "‌‍"‌‍
بچپن،     جوانی،    بڑھاپا، 
         اور یہ ترتیب عین عقل کے مطابق ہے،کیونکہ انسان اپنی عمر کے ابتدا میں نشو و نما کے عرصہ میں ہوتا ہے اسی کا نام  ""طفولیت"" (بچپنہے، حتی کہ وہ نشو و نما کے کمال کو پہنچ جاتا ہے اور اسے کوئی ضعف و کمزوری لاحق نہیں ہوتی، یہی چیز  ""جوانی""  کہلاتی ہے، پھر وہ واپس آنا شروع ہوجاتا ہے، اور اس کے اندر کمزوری و نقص کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں، اور یہی شیخوخت ( بڑھاپاکا مرتبہ ہے۔
( التفسیر الکبیر للرازی
       طفولیت و بچپن کے ذکر کی علاوہ قرآن نے    "بچوں سے محبت کے اشارات کئے ہے"۔
" بچوں کے حقوق کا ذکر بھی قرآن نے اپنے مخصوص انداز میں کیا"۔
"‌‍ بچوں کے تحفظ کی طرف بھی متوجہ بھی  کیا ہے. "‌‍
         اگر قرآن کی آیات و تعلیمات پر ایک طائرانہ نظر بھی ڈالی جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ کوئی ایسا امر جو  بچوں اور بچیوں سے متعلق ہو یا بچپن سے تعلق رکھتا ہو اور اہم بھی ہو تو قرآن نے نہ صرف صراحتا یا اشارتاً  ذکر کیا ہے بلکہ بعض اہم ترین اور ضروری باتوں کا حکم بھی دیا ہے ۔
۲۴ / ۰۹ / ۲۰۱۷
جاری
ان شاء اللہ العزیز✒✒✒✒


مکمل تحریر >>